اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم سطح پر برقرار ہے اور نئی رائٹرز/اِپسوس پول نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی خطرات نمایاں کردیئے ہیں۔ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کی منظوری دیتے ہیں، جو مسلسل تیسری رائٹرز/اِپسوس سروے میں یہی سطح ہے۔
سروے میں امریکی عوام کی ایران جنگ اور ملکی معیشت، خصوصاً مہنگائی اور بڑھتی ہوئی روزمرہ اخراجات سے متعلق تشویش واضح ہوئی۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریتیں برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
پول کے مطابق ڈیموکریٹس انتخابی جوش میں ریپبلکنز سے آگے ہیں۔ خود کو ڈیموکریٹ قرار دینے والے 46 فیصد افراد نے کہا کہ وہ نومبر میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح 31 فیصد رہی۔
جب 1,167 امریکی بالغ افراد سے پوچھا گیا کہ اگر آج کانگریس کے انتخابات ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے تو 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کا انتخاب کیا، جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کو ترجیح دی۔
اگست کے وسط سے ٹرمپ کی مقبولیت اس سطح پر ہے جسے انہوں نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے ابتدائی دور میں بھی صرف مختصر عرصے کے لیے دیکھا تھا۔ ان کی موجودہ مدت کے آغاز میں 47 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے مطمئن تھے۔
ٹرمپ کی موجودہ 33 فیصد منظوری ان کے پیشرو ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کی اکتوبر 2024 میں ریکارڈ کی گئی 35 فیصد کی کم ترین شرح سے بھی نیچے ہے۔
ایران جنگ نے بھی ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ فروری میں ایران کے خلاف امریکی بمباری شروع ہونے کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ صرف 36 فیصد امریکیوں نے جنگ سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کی۔
معیشت کے معاملے میں بھی ریپبلکنز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے رجسٹرڈ ووٹرز کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس معیشت کے لیے بہتر خیالات ہیں۔ یہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار ہے کہ ڈیموکریٹس نے اس معاملے میں برتری حاصل کی ہے۔
