اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت کے مقبول چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو ان ڈیجیٹل سروسز کی فہرست میں شامل کرلیا ہے جنہیں یورپ میں سخت قانونی نگرانی کا سامنا ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ کو یورپی یونین کی جانب سے اس سطح کی اضافی قانونی جانچ کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
یورپی کمیشن نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ریڈٹ اور مقبول گیمنگ پلیٹ فارم روبلوکس کو بھی بہت بڑے آن لائن پلیٹ فارمز قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کی ٹیکنالوجی چیف ہینا ورکنن نے کہا کہ تینوں پلیٹ فارمز کو یورپی شہریوں اور معاشرے پر ان کے بڑے اثرات کے باعث زیادہ سخت نگرانی اور جواب دہی کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت بہت بڑے پلیٹ فارم کا درجہ ان سروسز کو دیا جاتا ہے جن کے 27 رکنی بلاک میں ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 45 ملین سے زیادہ ہو۔ یورپی کمیشن کے مطابق چیٹ جی پی ٹی، ریڈٹ اور روبلوکس نے یہ حد پوری کی ہے۔
نئی نامزدگی کے بعد تینوں پلیٹ فارمز کو اضافی قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ ان میں غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ اور کم عمر صارفین پر منفی اثرات سمیت صارفین کی جسمانی و ذہنی صحت، بنیادی حقوق، انتخابی عمل اور عوامی سلامتی سے متعلق خطرات کا جائزہ لینا اور انہیں کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
یورپی کمیشن نے چیٹ جی پی ٹی کو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے ریگولیٹری دائرے میں لانے کے لیے اسے سرچ انجن کے طور پر بھی درجہ دیا ہے۔
امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے مطابق مارچ کے اختتام تک یورپی یونین میں چیٹ جی پی ٹی کے صارفین کی تعداد 159 ملین سے زیادہ تھی، جو 27 رکنی بلاک کی آبادی کے ایک تہائی سے زائد بنتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی نے کہا ہے کہ وہ نئی تعمیلی ضروریات پوری کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
روبلوکس کے یورپی یونین میں 46.6 ملین فعال صارفین ہیں، جو 45 ملین کی مقررہ حد سے کچھ زیادہ ہیں، جبکہ ریڈٹ کے مطابق بلاک میں اس کے صارفین کی تعداد 57 ملین سے زائد ہے۔
یورپی یونین نے حالیہ عرصے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف اپنے ڈیجیٹل قوانین کا نفاذ تیز کیا ہے۔ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت تقریباً 30 سروسز کو اضافی نگرانی کے لیے نامزد کیا جاچکا ہے، جن میں گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ، ٹک ٹاک، ایکس، ایمیزون اور شین سمیت بڑی ٹیک کمپنیاں شامل ہیں۔
