US attack on Lark Island, Iran retaliates; Trump threatens further action

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماہ بعد ایک بار پھر براہِ راست حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تنازع بڑی حد تک پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ تک محدود دکھائی دے رہا تھا۔

ایران نے رات گئے اردن میں موجود دو امریکی فضائی اڈوں پر میزائل داغے۔ تہران کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایرانی لانچرز کو نشانہ بنانے کے امریکی حملے کا جواب تھی۔ امریکا نے بتایا تھا کہ اس نے ایران کے لارک جزیرے پر ان لانچرز کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے راکٹ تیار کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز کے ایک رپورٹر کے مطابق کہا کہ امریکا ایران کو سخت نشانہ بنائے گا اور مزید کارروائی ہوگی۔ بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ حملے مکمل جنگ کی واپسی کا مطلب نہیں، تاہم امریکا ایران کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی معیشت اور فوج کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ایران فوجی اعتبار سے مکمل طور پر شکست خوردہ ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حالیہ جھڑپ محدود اور قابو میں رہی، تاہم ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو تہران سخت جواب دے گا۔

امریکا نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے تمام ایرانی میزائل مار گرائے جو نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ادھر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایرانی تیل کی بڑی تنصیب جزیرہ خارک کے تباہ ہونے کی دو ویڈیوز بھی شیئر کیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز تھیں اور ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ایران نے اس پوسٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران نئی پابندیوں کے معاشی اثرات سے پریشان ہو کر عسکری ردعمل دے رہا ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تیسرے ممالک اور اداروں پر ثانوی پابندیوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیاں ہفتہ وار سامنے آسکتی ہیں، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو میں کہا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ جنگ جاری رکھنا ایران، خطے یا انسانیت میں سے کسی کے مفاد میں نہیں۔