اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کو اہم سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے، ہیگ میں قائم مستقل عدالتِ ثالثی نے بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
عدالت نے معاہدے کی حیثیت سے متعلق فیصلہ جاری کرنے کے ساتھ عبوری اقدامات کا پابند حکم بھی دیا، جس کے تحت بھارت کو متنازع رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بعض تعمیراتی سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہوسکتا۔
فیصلے کے مطابق بھارت رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے ڈیم کی دیوار اور پاور ان ٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطح سے زیادہ کنکریٹ نہیں کرسکے گا۔ یہ پابندی غیر جانب دار ماہر کے فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ بھارت کو دریائے سندھ کے مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سمیت معاہدے کی تمام متعلقہ شقوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے اس اقدام کو مسلسل مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے سندھ دریا کے نظام سے متعلق معاملات اسی معاہدے کے تحت چلاتے رہے ہیں۔
عدالت نے پیکٹا سنٹ سرونڈا کے بنیادی اصول پر بھی زور دیا، جس کا مطلب ہے کہ معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق بھارت کے پاس معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں، خواہ وہ خودمختاری، سرحد پار دہشت گردی یا حالات میں بنیادی تبدیلی کا مؤقف اختیار کرے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کو معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم نہیں کیا گیا۔ وزارت کے مطابق حکومت فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔
پاکستان کے سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر دریائے چناب پر منصوبوں کے ذریعے مرالہ کے مقام پر پانی کی فراہمی متاثر کی گئی تو پنجاب کی زراعت کو سنگین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بھارت کے خودمختار فیصلوں پر حکم دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ بھارت نے واضح کیا کہ 2025 میں معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اس کا فیصلہ برقرار ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق عدالت کا حکم بھارت سے تعمیراتی شیڈول کی رپورٹنگ بھی جاری رکھنے کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ غیر جانب دار ماہر کا حتمی فیصلہ تقریباً جولائی 2027 میں متوقع ہے۔
