Iran's blunt response to the US, demanding full compensation for the damage caused by sanctions

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے عائد یک طرفہ پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان سے ہونے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کا مکمل ازالہ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو ارسال کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی یک طرفہ پابندیوں کے ذریعے ایران کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تلافی کا ذمہ دار ہے اور اسے بحالی، معاوضے اور ہرجانے سمیت تمام واجبات ادا کرنا ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات کو معاشی دہشت گردی کی مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ جبری اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو جواب دہی، معاوضے اور تلافی کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ ان اقدامات کے ذمہ دار افراد کو بھی قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کرے گا۔

عراقچی نے کہا کہ امریکا کو ان اقدامات کے نتیجے میں ہونے والے تمام مادی اور اخلاقی نقصانات کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ یک طرفہ پابندیوں اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں اور ایسے اقدامات کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کے ذریعے واشنگٹن دوسرے ممالک کے آزادانہ اقتصادی اور تجارتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی نئی امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے امریکا کچھ حاصل نہیں کرسکے گا۔ ان کے بقول جس طرح جنگ میں امریکا اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا، اسی طرح اقتصادی دباؤ بھی ایران کو جھکانے میں ناکام رہے گا۔

دوسری جانب قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی ایران کا دورہ کررہے ہیں تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ قطر نے ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان پس پردہ مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے اور جون میں عارضی جنگ بندی کے قیام میں بھی براہ راست کردار ادا کیا تھا۔