اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز خبر کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ کے ان سفارتی مشنز میں عملے کی واپسی شروع کردی ہے جہاں رواں سال فروری میں تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد سفارتی اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا تھا یا عملے کی تعداد کم کردی گئی تھی۔
امریکی حکام سے واقف دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ لبنان، اسرائیل، سعودی عرب اور عراق کے دارالحکومت بغداد میں قائم امریکی سفارتی مراکز میں اہلکاروں کی واپسی متوقع ہے، جبکہ ریاض میں تعینات امریکی سفارتی عملے کے اہل خانہ کو بھی دوبارہ سعودی عرب آنے کی اجازت دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق عملے کی واپسی رواں ہفتے کے دوران شروع ہوسکتی ہے، تاہم بعض امریکی سفارتخانے ابتدائی طور پر مکمل گنجائش کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ کچھ مشنز میں مجاز عملے کی تعداد زیادہ سے زیادہ 85 فیصد تک محدود رکھی جائے گی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے خطے میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر ضرور سمجھا ہے لیکن مکمل طور پر خطرے سے پاک قرار نہیں دیا۔
امریکا نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد مشرق وسطیٰ میں مختلف سفارتی مراکز سے عملہ نکالا تھا۔ خلیجی ممالک میں موجود بعض امریکی تنصیبات کو ایرانی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث سعودی عرب اور کویت سمیت بعض ممالک میں سفارتی سرگرمیاں عارضی طور پر محدود کرنا پڑی تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ محکمہ دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز کی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتا ہے۔ ان کے مطابق تازہ جائزے کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ کے بعض سفارتی مراکز میں عملے کی پوزیشن تبدیل کی جارہی ہے تاکہ امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے ساتھ سفارتی اہلکاروں کی حفاظت اور سکیورٹی بھی یقینی بنائی جاسکے۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ اردن، عمان، کویت اور قطر میں بھی امریکی سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد بڑھانے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، اردن اور عمان میں امریکی مشنز کو بالآخر مکمل عملے کے ساتھ بحال کیا جائے گا، جبکہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور لبنان میں ابتدائی طور پر 85 فیصد عملہ موجود ہوگا۔ عراق، کویت اور بحرین میں عملے کی تعداد 75 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
خطے میں شدید لڑائی میں کمی کے باوجود امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے جبکہ تیل اور دیگر اہم اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے۔ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تاحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے سفارتی عملے کی واپسی کو خطے میں فوری طور پر کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات میں کمی کی اہم علامت قرار دیا جارہا ہے۔
