اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون خبر کے مطابق چین اور بھارت نے طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے اور ایک منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول تصفیے کی تلاش پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی سفارتی حکام کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں سرحدی امور کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، تعاون اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے سرحدی معاملات اور دوطرفہ تعلقات پر جامع، گہرائی پر مبنی، دوستانہ اور کھلے انداز میں بات چیت کی۔ وانگ یی نے کہا کہ چین اور بھارت کے تعلقات اب صرف دونوں ملکوں تک محدود اہمیت نہیں رکھتے بلکہ ان کی عالمی اور تزویراتی اہمیت بھی ہے، اس لیے دونوں ممالک کو باہمی رابطے مضبوط بنانے اور اختلافات کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بھارتی سفارتخانے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں سرحدی علاقوں میں امن، استحکام اور معمول کے حالات برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چین اور بھارت دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہونے کے ساتھ ساتھ جوہری طاقتیں بھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہمالیہ میں تقریباً 3,800 کلومیٹر یعنی 2,400 میل طویل سرحد موجود ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ اب تک واضح طور پر حدبندی شدہ نہیں اور متعدد مقامات پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے دعوؤں سے اختلاف رکھتے ہیں۔
دونوں ممالک کے تعلقات 2020 میں سرحد پر ہونے والی ایک خونریز جھڑپ کے بعد شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد تقریباً چار سال تک دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فوجی تعطل برقرار رہا، تاہم اکتوبر 2024 میں فوجی انخلا کے معاہدے کے بعد صورتحال میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی۔ گزشتہ سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی 7 سال بعد چین کا دورہ کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں برف پگھلنے کی اہم علامت قرار دیا گیا۔
وانگ یی نے اجیت ڈوول سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کو تاریخی تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے سرحدی مسئلے کو دوطرفہ تعلقات میں مناسب مقام دینا چاہیے اور تعلقات کو جمود، پسپائی یا انحراف کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ اور نئی دہلی نے آئندہ دور کے سرحدی مذاکرات 2027 میں بھارت میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جسے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور طویل عرصے سے حل طلب سرحدی مسئلے پر سفارتی رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
