اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق یمن اور صومالیہ کے قریب خلیج عدن میں رواں ہفتے مسلح افراد کے ہاتھوں قبضے میں لیے گئے دو بحری جہازوں پر مجموعی طور پر 22 بھارتی شہریوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ دونوں جہازوں پر موجود بھارتی شہری بظاہر محفوظ ہیں اور حکام صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق دو غیر ملکی پرچم بردار بحری جہاز اس واقعے میں ملوث ہیں۔ ان میں سے ایک سیمول نامی ٹینکر ہے جس پر 16 بھارتی ملاح سوار تھے۔ جہاز نے جمعرات کو خلیج عدن میں ہنگامی پیغام جاری کیا، جس کے بعد مسلح افراد نے اس پر سوار ہوکر عملے کو جہاز کا رخ صومالیہ کی جانب موڑنے پر مجبور کردیا۔
ترجمان نے بتایا کہ دوسرے جہاز پر 6 بھارتی شہری موجود تھے، یوں دونوں بحری جہازوں پر بھارتی شہریوں کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی۔ ان کے مطابق بھارتی حکام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دستیاب اطلاعات کے مطابق تمام بھارتی شہری محفوظ ہیں۔
سیمول ٹینکر پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں آچکا ہے۔ امریکا نے گزشتہ سال دسمبر میں اسے ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ کا حصہ قرار دے کر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس فلیٹ سے وابستہ جہاز مبینہ طور پر ایرانی تیل کی برآمد کے لیے ایسی شپنگ تکنیک استعمال کرتے ہیں جن کے ذریعے جہازوں کی شناخت اور نقل و حرکت چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوسرے واقعے میں کیمرون کے پرچم بردار کارگو جہاز لوتف کو پیر کے روز 8 مسلح افراد نے قبضے میں لے لیا۔ اس جہاز پر 6 بھارتی شہری سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے لیے ایک ایسے جہاز کا استعمال کیا جسے وہ اپریل میں پہلے ہی قبضے میں لے چکے تھے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دونوں واقعات کی نگرانی کررہے ہیں اور متاثرہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مسلح افراد نے جہازوں پر قبضہ کس مقصد کے لیے کیا اور ان کی رہائی کے لیے کوئی مذاکرات شروع ہوئے ہیں یا نہیں۔
