اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک نقشہ جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو نیا امریکی علاقہ قرار دیا، جبکہ ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہورہی۔ ٹرمپ کا یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی تازہ کوشش قرار دیا جارہا ہے، جبکہ ایران نے امریکی دعوے کا سخت طنزیہ جواب دیا ہے۔
ٹرمپ نے نقشے کے ساتھ نیو یو ایس ٹیریٹوری لکھا، جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی اقدام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے میں امریکا کی ناکامی اور اس پر ملکیت کے دعوے کے درمیان 7 ہزار میل کا فاصلہ ہے۔
ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ سے اس اہم سمندری گزرگاہ پر امریکی خودمختاری کا امکان ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے، گرین لینڈ اور کیوبا پر قبضے اور غزہ کا کنٹرول سنبھالنے جیسے بیانات بھی سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر نے پیر کو کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بہت مثبت اور فعال بات چیت جاری ہے، تاہم ٹرمپ نے بعد میں اس دعوے کی تردید کردی۔ امریکی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی کوئی مذاکرات طے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران اسے مؤثر طور پر بند رکھا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، تیل پر پابندیاں اٹھانے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کی ادائیگی سمیت مطالبات پورے ہونے تک آبنائے نہیں کھولی جائے گی۔
ٹرمپ نے منگل کو دعویٰ کیا کہ بحری ناکہ بندی بدستور نافذ ہے، تاہم آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے اور تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا ناکارہ بنادی گئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی ذرائع نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مثبت رابطے ہوئے تھے، مگر ٹرمپ نے معاہدے کے لیے جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو مزید پیش رفت روکنے کی ہدایت کی۔
