Palestinian families trapped in homes, US pressures Israeli PM for open stance

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں کا محاصرہ کرنے والے مسلح یہودی آبادکاروں کے اقدامات کی کھلے عام مذمت کریں۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نیتن یاہو سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ قصرا میں فلسطینی خاندانوں کے خلاف آبادکاروں کی کارروائیوں پر واضح مؤقف اختیار کریں۔

ایک امریکی اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن نے اس معاملے پر اس وقت احتجاج کیا جب اسے معلوم ہوا کہ نشانہ بننے والے گھروں میں ایک فلسطینی نژاد امریکی شہری کا گھر بھی شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو محفوظ رکھتا ہے اور یہ خطے میں امن کے حصول کے لیے امریکی انتظامیہ کے مقصد سے مطابقت رکھتا ہے۔

نیتن یاہو نے قصرا میں جاری محاصرے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ ان کے دفتر نے بھی فوری طور پر مؤقف دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد میں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد گزشتہ تین برس کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق قصرا میں تقریباً 15 فلسطینی، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، اپنے گھروں کے اندر محصور ہیں اور وہاں پانی اور بجلی کی سہولت بھی موجود نہیں۔

رائٹرز کو حاصل ہونے والی ویڈیو میں ایک فلسطینی شہری کے گھر کے باہر سات آبادکاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک نیلے رنگ کا خیمہ بھی دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایک آبادکار قریبی گاؤں کی طرف پتھر پھینکتا نظر آتا ہے۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج کی گاڑیاں اور اہلکار وہاں پہنچے اور خیمہ زمین پر گرا ہوا دکھائی دیا۔