اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میٹا کے مطابق دسمبر میں آسٹریلیا کی نئی قانون سازی کے نفاذ سے جون تک 4 لاکھ 62 ہزار مشتبہ انسٹاگرام اکاؤنٹس اور 2 لاکھ 94 ہزار فیس بک اکاؤنٹس بند کیے گئے۔ کمپنی نے جنوری تک 3 لاکھ 31 ہزار انسٹاگرام اور ایک لاکھ 73 ہزار فیس بک اکاؤنٹس ہٹانے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد کارروائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کا قانون 10 دسمبر کو نافذ کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں اور کم عمر نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
میٹا نے کہا ہے کہ وہ قانون کی مخالفت کے باوجود اس کی تعمیل کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمپنی کے مطابق کارروائی ابھی جاری ہے اور کم عمر صارفین کے مزید اکاؤنٹس بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت اور آزاد مطالعات کے مطابق پابندی کے ابتدائی تین ماہ کے دوران 16 سال سے کم عمر 10 میں سے 8 سے زائد افراد اب بھی سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے۔ حکومت نے عدم تعمیل پر زیادہ سخت کارروائی کے لیے زیادہ سے زیادہ جرمانے کو بڑھا کر 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارفین کے پروفائلز میں ایسے اشارے تلاش کر رہی ہے جو اکاؤنٹ کے مالک کی عمر 16 سال سے کم ہونے کی نشاندہی کریں۔ ان اشاروں میں سالگرہ، اسکول کی جماعت یا تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ مشتبہ کم عمر اکاؤنٹس کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایسے صارفین کو دوبارہ اکاؤنٹ بنانے کی کوشش سے روکا جا رہا ہے جن کا اکاؤنٹ کم عمری کی بنیاد پر پہلے ہی حذف کیا جا چکا ہو۔
جمعے کو میٹا، ٹک ٹاک، گوگل کی ملکیت یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ کے نمائندے پارلیمانی انکوائری میں پیش ہوکر نئی قانون سازی اور اس پر عمل درآمد سے متعلق سوالات کے جواب دیں گے۔
