اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے کویت میں واقع امریکی احمد الجابر ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا، جبکہ عراق نے امریکی اور سعودی حملوں سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بغداد نے نہ تو ایسی کسی کارروائی کی اجازت دی اور نہ ہی اسے پیشگی معلومات حاصل تھیں۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ایرانی فوج نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ احمد الجابر ایئر بیس پر دھماکا خیز ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس میں جنگی طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج نے اس اڈے کو امریکی فضائی نگرانی، انٹیلی جنس سرگرمیوں اور لاجسٹک سپورٹ کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی۔
تاہم خبر جاری ہونے تک نہ امریکی حکام اور نہ ہی کویتی حکومت کی جانب سے ایرانی دعوے کی تصدیق یا تردید میں کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا۔
دوسری جانب عراقی حکومت نے حالیہ امریکی اور سعودی فضائی حملوں کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ عراقی حکومت کے ترجمان حیدر العبودی نے کہا کہ بغداد نہ تو ان حملوں سے قبل آگاہ تھا اور نہ ہی اس نے اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ خطے میں جاری بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ عراق کسی بھی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنے۔
حیدر العبودی کے مطابق حالیہ امریکی اور سعودی حملوں میں عراق کے سات صوبے متاثر ہوئے، جہاں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے 18 سے زائد اہلکار ہلاک جبکہ 20 دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد نے سعودی عرب سے ان الزامات کے شواہد بھی طلب کیے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراقی سرزمین سے سعودی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے، تاہم عراقی تحقیقاتی کمیٹیوں کو اب تک ایسے کسی دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم علی الزیدی کا سعودی عرب کا طے شدہ دورہ بھی حالیہ حملوں کے بعد مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات اور حسنِ ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بننے کا خواہاں نہیں۔
