War pauses after 13-day US airstrike, Iran makes important statement, Trump concerned about weapons stockpiles

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی رپورٹ کے ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا اپنی فضائی کارروائیاں معطل رکھتا ہے تو تہران بھی جوابی حملے نہیں کرے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والی امریکی بمباری کے بعد واشنگٹن نے اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سفارتی حل کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران کی پالیسی اب بھی حملے کے بدلے حملہ ہے، تاہم اگر امریکا اپنی کارروائیاں روک دیتا ہے تو ایران بھی اپنے حملے معطل رکھے گا۔ ان کے مطابق یہ پیغام امریکی حکام تک پہنچا دیا گیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع نے جمعہ کی شب ایران پر جاری فضائی حملوں کا سلسلہ روک دیا تھا، جس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو کسی نئے امریکی حملے کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب ایران نے بھی گزشتہ دو روز سے ان خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا جہاں پہلے مسلسل جوابی حملے کیے جا رہے تھے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے بمباری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ مذاکرات کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ تنازع کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی اہداف پر ہونے والی شدید بمباری کے باعث پہلے سے منتخب کیے گئے بیشتر عسکری اہداف تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق فوجی قیادت نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ مزید وسیع پیمانے پر کارروائی نہ صرف محدود فوجی فائدہ دے گی بلکہ امریکی اسلحہ ذخائر، خصوصاً فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں پر بھی دباؤ بڑھائے گی۔

اطلاعات کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں امریکی فوج کو لاجسٹک اور عسکری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی فوج نے ان اطلاعات پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔

اگرچہ تہران نے امریکی حملوں میں وقفے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ایرانی قیادت اسے مستقل پالیسی تبدیلی تصور نہیں کر رہی۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران میں اس بات پر شکوک موجود ہیں کہ امریکی فیصلہ وقتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان رہا ہے۔