اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق بھارت میں قومی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ تحریک نے حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔ یہ تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والا سب سے بڑا عوامی چیلنج تصور کی جا رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق سوشل میڈیا سے جنم لینے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما آج حکومتی نمائندوں سے غیر جانبدار مقام پر مذاکرات کریں گے۔ تنظیم کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے عوامی مطالبات سنے گی، تاہم مذاکرات کے باوجود احتجاجی تحریک واپس نہیں لی جائے گی۔
یہ پیش رفت سماجی کارکن سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
طلبہ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے، کیونکہ قومی امتحانات میں بار بار ہونے والے پرچہ لیک اسکینڈلز نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جہاں پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں نئی دہلی کے متعدد علاقوں میں دوبارہ کشیدگی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد حکام نے 17 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے جبکہ کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج اب صرف امتحانی پرچے لیک ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ بے روزگاری، تعلیمی مواقع کی کمی اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس تحریک کی حمایت کر رہی ہیں، جس کے باعث پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس بھی شدید احتجاج کی نذر ہو چکا ہے۔
