اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کی گئیں جن کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں واشنگٹن بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حملوں سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کو بہت سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ بعد ازاں انہوں نے ایران پر بحری پابندیوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر سکیورٹی فیس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
امریکی حملوں کے چند گھنٹوں بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ عمانی سمندری حدود میں جنوبی راستے سے گزرنے والے دو آئل ٹینکر کروز میزائل حملوں کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی جبکہ آٹھ دیگر افراد معمولی زخمی ہوئے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم شے لگنے کی اطلاع دی، تاہم دونوں واقعات کے باہمی تعلق کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ دو ایسے سپر ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے ایرانی انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے نیوی گیشن سسٹم بند رکھا اور تہران کی ہدایات کے برخلاف راستہ اختیار کیا۔ ایرانی حکام نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ جہازوں کو ایسے راستے استعمال کرنے پر اکسا رہا ہے جنہیں ایران غیر قانونی قرار دیتا ہے، جبکہ خبردار کیا گیا کہ ایسی کارروائیاں عالمی توانائی کی ترسیل کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے بعد بندر عباس، قشم، کیش، ابو موسیٰ، بوشہر اور خوزستان سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق خوزستان میں ہونے والی کارروائی میں چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں کام شروع کر دیا۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور کویت میں امریکی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر بحرین نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا تحفظ ایران کی ذمہ داری ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی لازمی فیس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسی کسی تجویز کی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
