Diplomatic efforts by regional countries, including Pakistan, are intensifying, trying to bring the US and Iran to the negotiating table.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران پاکستان، قطر، سعودی عرب اور مصر سمیت کئی علاقائی ممالک نے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے اور دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک کے حکام نے گزشتہ روز امریکی اور ایرانی حکام سے متعدد ٹیلیفونک رابطے کیے، جن کا مقصد فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور جوہری معاہدے پر تکنیکی مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ثالثی میں شامل ایک علاقائی ذریعے کا کہنا ہے کہ ان ممالک کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ حملے ایرانی نظام کے ایسے عناصر نے کیے جو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سفارتی کوششوں کا پہلا مرحلہ جنگی صورتحال کو قابو میں لانا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تکنیکی وفود کے درمیان مذاکرات کی نئی تاریخ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب ایران نے جمعرات کو خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے مختلف جنوبی علاقوں، بشمول بندر عباس، بوشہر، کنارک اور چوغادک میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ان واقعات کے دوران امریکا نے کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

ادھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین ان کے آبائی شہر مشہد میں مذہبی رسومات کے ساتھ انجام دی گئی، جہاں لاکھوں افراد نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بتدریج بحال ہو رہی ہے، تاہم گزرنے والے بحری جہازوں کو صرف ایران کی مقرر کردہ گزرگاہوں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مئی کے آغاز سے اب تک 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور تقریباً 380 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں معاونت فراہم کی ہے اور آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔

اس دوران قطر نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں، جبکہ ترکی اور عمان نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ رابطے کر کے خطے میں مزید کشیدگی سے گریز پر زور دیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔