Trump still views Iran with old eyes, but the battlefield has changed

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی گارڈئین  میں شائع ہونے والے تجزیے میں امریکی صحافی سینا توسی لکھتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ایران میں 170 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور زیادہ خطرناک کشیدگی جنم لے چکی ہے۔ تاہم امریکی امور کے ماہر سینا توسی کے مطابق اصل مسئلہ صرف نئی بمباری نہیں بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کو اسی پرانے تناظر میں دیکھ رہا ہے، جبکہ خطے کا اسٹریٹجک منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائیوں اور سخت اقدامات کا عندیہ بھی دیا، اگرچہ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔

سینا توسی کے مطابق موجودہ بحران صرف حالیہ حملوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد کئی دہائیوں پر محیط عدم اعتماد پر قائم ہے۔ ایران کو کبھی یقین نہیں رہا کہ امریکا طویل مدت تک پابندیوں میں نرمی برقرار رکھے گا یا دباؤ اور حکومت کی تبدیلی کی پالیسی سے دستبردار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم تنازع بن چکی ہے۔

مصنف کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد جنگ کے بعد اعتماد بحال کرنا تھا۔ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازرانی بحال ہونا، ایران کو تیل برآمد کرنے میں رعایت ملنا، منجمد اثاثوں تک رسائی، لبنان میں جنگ بندی اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز شامل تھا۔ لیکن عملی طور پر دونوں فریق ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے رہے۔

ان کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر معاہدے کی بنیادی روح کو نقصان پہنچایا، جبکہ واشنگٹن نے بھی ایران کے منجمد اثاثوں اور تیل برآمدات سے متعلق وعدے مکمل طور پر پورے نہیں کیے۔ دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنی شرائط نافذ کر کے عالمی تجارت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سینا توسی کے مطابق موجودہ تنازع صرف حالیہ اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں امریکی پابندیوں کی طویل تاریخ میں موجود ہیں۔ ایران کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی معاشی رعایتیں ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی ہیں، اس لیے تہران اب مستقبل کے وعدوں کے بجائے اپنی عملی طاقت پر انحصار کر رہا ہے۔

مصنف کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیے آج آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ بن چکی ہے۔ اگر جہازرانی اور توانائی کی عالمی سپلائی اس کے اثر و رسوخ سے منسلک رہتی ہے تو مستقبل میں امریکا کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

سینا توسی مزید لکھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں عالمی توانائی کی منڈی بھی پہلے سے زیادہ حساس ہے۔ امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر محدود ہو چکے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال نہیں ہو سکی۔ ایسی صورتحال میں اگر یہ آبی گزرگاہ مزید متاثر ہوتی ہے تو پوری دنیا ایک نئے توانائی بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔

مصنف کے مطابق ایران اس وقت تین بڑے ذرائع سے اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان میں اس کی فوجی صلاحیت، خطے میں موجود اتحادی گروہ اور جوہری پروگرام شامل ہیں، تاہم اب سب سے زیادہ اہمیت آبنائے ہرمز اور خطے کے توانائی راستوں پر اس کے جغرافیائی اثرورسوخ کو حاصل ہو چکی ہے۔

تجزیے کے اختتام پر سینا توسی لکھتے ہیں کہ اگر واشنگٹن اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ صرف فوجی دباؤ یا پابندیوں میں وقتی نرمی کے وعدوں کے ذریعے ایران کو اپنی اسٹریٹجک برتری چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو یہ ایک غلط اندازہ ہوگا۔ ان کے مطابق جنگ نے ایران کی سوچ، ترجیحات اور مذاکراتی حکمتِ عملی کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ جب تک امریکا اس نئی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا، دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کے دیرپا ثابت ہونے کے امکانات محدود رہیں گے۔