Important negotiations between Israel and Lebanon under US mediation, Israeli withdrawal from two border villages considered

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق  اسرائیل اور لبنان کے فوجی حکام نے امریکہ کی ثالثی میں جنوبی لبنان کے دو سرحدی دیہات سے اسرائیلی فوج کے مجوزہ مرحلہ وار انخلا کے حوالے سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بات چیت کا مقصد ایسے واضح سیکیورٹی اصول طے کرنا ہے جن کے تحت ان علاقوں کو حزب اللہ سے پاک زون قرار دیا جا سکے تاکہ انخلا کے عمل کے دوران کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا کشیدگی پیدا نہ ہو۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات میں ماضی کے اختلافات سے بچنے کے لیے حزب اللہ سے پاک علاقوں کی واضح تعریف اور عملی طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو اعلیٰ دفاعی حکام کے ساتھ ایک اہم سیکیورٹی اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں لبنان کی سرحدی صورتحال اور انخلا کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ابھی تک دو آزمائشی (پائلٹ) علاقوں سے انخلا شروع نہیں کیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انخلا اسی وقت ممکن ہوگا جب لبنانی فوج اور امریکی سینٹرل کمانڈ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ لبنانی فورسز متعلقہ علاقوں میں تعیناتی اور سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اگر انتظامات طے پا گئے تو آئندہ چند ہفتوں میں انخلا کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 26 جون کو امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیل نے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ معاہدے کے مطابق آئندہ مراحل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ لبنانی فوج خالی کیے گئے علاقوں میں مکمل کنٹرول سنبھالے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں، خصوصاً حزب اللہ، کی موجودگی ختم کی جائے۔

دوسری جانب اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جنوبی لبنان میں جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار 300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر اب بھی قابض ہیں، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے ان کے زیرِ قبضہ ہیں، جبکہ بعض مقامات 2023-24 کی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے تھے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج لبنانی حدود میں 10 کلومیٹر سے زائد اندر تک پیش قدمی بھی کر چکی ہے۔