Diljit Dosanjh's controversial film 'Sutlej' was removed two days after its release in India, the controversy intensified again

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) فروبز کی خبر کے مطابق بھارتی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی طویل عرصے سے متنازع سمجھی جانے والی فلم ‘ستلج’ کو بھارت میں ریلیز کے محض دو روز بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی 5 نے اپنی بھارتی سروس سے ہٹا دیا، جبکہ فلم اب بھی زی5 گلوبل کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک میں دستیاب ہے۔

زی فائیو نے اپنے انسٹاگرام بیان میں کہا کہ فلم کو ناظرین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی، تاہم موجودہ حالات کے باعث اسے مزید اطلاع تک بھارت میں دستیاب نہیں رکھا جا رہا۔ پلیٹ فارم نے واضح کیا کہ وہ فلم اور اس کے تخلیقی وژن کی حمایت جاری رکھے گا اور قانونی و ضابطہ جاتی عمل کے ذریعے اسے دوبارہ بھارتی ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کرے گا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ فلم ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے۔

ہدایت کار ہنی ٹریہن کی فلم ‘ستلج’ دراصل پنجاب کے معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خلڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت قتل اور نامعلوم افراد کی اجتماعی آخری رسومات سے متعلق تحقیقات کر کے اہم شواہد سامنے لائے تھے۔ بعد ازاں 1995 میں وہ لاپتا ہوگئے اور بعد میں ان کے قتل کی تصدیق ہوئی، جس کے باعث وہ انسانی حقوق کی جدوجہد کی ایک نمایاں علامت سمجھے جاتے ہیں۔

فلم میں اسی حساس دور، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور جسونت سنگھ خلڑا کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا ہے، جس کے باعث یہ آغاز ہی سے بھارتی سنسر حکام کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

رپورٹس کے مطابق فلم کا سنسر بورڈ کے ساتھ تنازع 2022 کے آخر میں شروع ہوا، جب بھارتی سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے فلم میں 127 ترامیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلم سازوں نے ان ترامیم پر اعتراض کیا، جس کے باعث فلم کی ریلیز کئی مرتبہ مؤخر ہوتی رہی اور اس کا نام بھی مختلف مراحل میں تبدیل کیا گیا۔

طویل قانونی اور انتظامی کارروائی کے بعد فلم 3 جولائی 2026 کو بغیر کسی کٹ کے زی5 گلوبل پر ریلیز کی گئی، جبکہ بھارت میں بھی محدود طور پر دستیاب ہوئی، لیکن ریلیز کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر اسے بھارتی پلیٹ فارم سے ہٹا لیا گیا۔