China calls on US and Iran to reduce tensions and adopt diplomatic solutions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چین نے امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، تناؤ میں اضافے سے گریز کریں اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ خطے میں حالیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موجودہ حالات تشویش کا باعث ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے ایران کے عزم کو آزمانے کی کوشش کی، تاہم تہران کسی بھی خطرے یا حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی ترجمان نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور ایران سیاسی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کی جانب پیش رفت کریں۔
ایک روز قبل بھی چین نے واضح کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران نے خلیجی ممالک کو شدید متاثر کیا ہے اور زمینی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لہٰذا کسی بھی فریق کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیں۔
چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
لن جیان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ فوجی طاقت کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔



