US direct attack on Tehran's power structure, sanctions on key figures including Iranian Interior Minister
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف دباؤ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے جمعہ کے روز ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور ایک نمایاں تاجر پر مالی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران پرامن شہریوں کے خلاف سخت اور خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق اسکندر مومنی اُن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نگران ہیں جن پر رواں ماہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فورسز منظم انداز میں پرامن مظاہرین کو دبانے میں ملوث رہیں۔
امریکی حکام نے واضح کیا کہ پابندیوں کی اس فہرست میں پانچ دیگر اعلیٰ ایرانی سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جنہیں ایرانی عوام کے خلاف تشدد پر مبنی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معروف سرمایہ کار بابک زنجانی پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جن پر ایران کے لیے رقوم کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں رجسٹرڈ دو ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فنڈز کی منتقلی میں کردار ادا کیا۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی بااثر اشرافیہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں اور خفیہ مالی نیٹ ورکس کا سہارا لے رہی ہے، مگر امریکا ایسے تمام راستے بند کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یرانی حکومت سے وابستہ عناصر عالمی مالی نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں، اور ہم ان کے ہر نیٹ ورک کو نشانہ بنائیں گے۔یہ نظام ڈوبتے ہوئے جہاز کی طرح ہے، جو ایرانی خاندانوں سے لوٹی گئی دولت کو دنیا بھر میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر محکمہ خزانہ اس کھیل کو جاری نہیں رہنے دے گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک جانب انہوں نے تہران میں ممکنہ مداخلت کی دھمکی دی ہے، تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی بحری جہاز تعینات کیے گئے ہیں، اگرچہ انہوں نے ایران سے بات چیت کی خواہش کا بھی عندیہ دیا ہے۔






