21 ستمبر 2025، نیویارک — برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک آزاد، خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ تینوں ممالک نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل مشترکہ طور پر اس اقدام کا اعلان کیا، جسے دنیا بھر میں اسرائیل کے جنگی اقدامات کے خلاف ایک علامتی مگر مؤثر سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا:

“فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے درمیان امن کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، ویسٹ بینک کے انضمام سے گریز، اور دو ریاستی حل کے لیے اقدامات نہیں کیے، جس کے بعد یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا۔

کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بیان میں کہا:

“کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے اور ایک پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہے۔”

 

انہوں نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ حماس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست میں کوئی کردار حاصل نہیں ہوگا۔ کینیڈا نے فلسطینی اتھارٹی سے جمہوری اصلاحات، انتخابات اور مکمل تخفیفِ اسلحہ کے وعدے لیے ہیں۔

آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البنیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا:

“آج آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر فلسطین کو تسلیم کر رہا ہے، جو دو ریاستی حل کی جانب عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔”

 

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی دیرینہ خواہشات کو تسلیم کرتے ہوئے آسٹریلیا یہ قدم اٹھا رہا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور طویل المدتی امن ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کا ردعمل

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ان ممالک کے فیصلے کو “حماس کے دہشتگردی کے لیے انعام” قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست “کبھی نہیں بننے دی جائےگی۔”

 

امریکہ نے بھی واضح کیا کہ وہ موجودہ جنگ کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایسی کسی قرارداد کو ویٹو کرے گا۔

عالمی اور علاقائی تناظر

  • اب تک 147 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت صرف سلامتی کونسل کی منظوری سے ممکن ہے۔

  • فرانس، پرتگال، آئرلینڈ، اسپین، لکسمبرگ اور مالٹا بھی آئندہ ہفتے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

  • اس پیشرفت سے اسرائیل کے سفارتی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 65,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطین کا ردعمل

فلسطینی وزیر خارجہ ورسن شاہین نے ان فیصلوں کو “امید کا پیغام” قرار دیا اور کہا کہ یہ دیرینہ تاریخی غلطیوں کی تصحیح کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ماخذ: یہ رپورٹ مختلف عالمی ذرائع بشمول Al Jazeera, Middle East Eye, اور Express Tribune کے متن کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، اور اسے خبر کے سیاق و سباق اور علاقائی ردعمل کو اجاگر کرتے ہوئے اردو قارئین کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔