اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن جمعرات کو کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں اپنی آبائی بندرگاہ واپس پہنچ گیا۔ یو ایس این آئی نیوز کے مطابق جہاز نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں حصہ لینے کے بعد ریکارڈ ساز تعیناتی مکمل کی۔
نیمٹز کلاس کے اس طیارہ بردار جہاز نے مجموعی طور پر 321 روزہ تعیناتی مکمل کی، جبکہ اس دوران وہ 265 روز مسلسل سمندر میں رہا اور کسی بندرگاہ پر نہیں رکا۔ امریکی بحریہ کے لیے یہ مسلسل سمندر میں رہنے کا ریکارڈ ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بدھ کو سمندر میں جہاز پر پہنچے اور آپریشن ایپک فیوری میں کردار کے اعتراف میں عملے کو پریزیڈنشل یونٹ سائیٹیشن پیش کیا۔ یہ امریکی فوجی یونٹوں کو دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔
ہیگستھ نے ملاحوں سے خطاب میں کہا کہ اس کیریئر اسٹرائیک گروپ نے ایسا کام کیا ہے جو اس سے پہلے کسی دوسرے کیریئر گروپ نے نہیں کیا۔ انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں جہاز کو ناقص کارکردگی یا عملے کے کم حوصلے کی علامت قرار دیا گیا تھا۔
تقریباً 5 ہزار ملاحوں اور میرینز پر مشتمل عملہ گزشتہ نومبر میں بحرالکاہل کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اسے مشرق وسطیٰ منتقل کردیا گیا۔
موسم گرما میں میڈیا رپورٹس میں جہاز کے عملے کو خوراک اور بنیادی سامان کی قلت، ذہنی صحت اور حوصلے میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعض رپورٹس میں دو ملاحوں کی سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں طاقتور دھماکے ہوئے، جن کی ممکنہ وجہ تیل بردار جہازوں کا بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانا ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ بعض جہاز ایسے راستے استعمال کر رہے تھے جنہیں ایران نے مجاز قرار نہیں دیا تھا۔ تاہم جہازوں کی تعداد، شناخت، جانی نقصان یا نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے لاس اینجلس یا سان ڈیاگو جیسے شہروں کو نشانہ بنانے سے متعلق ان کا بیان غلط سمجھا گیا۔ ٹروتھ سوشل پر انہوں نے کہا کہ وہ دراصل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں عارضی اضافے کو ایک معمولی قربانی قرار دے رہے تھے۔
ٹرمپ کے سابقہ بیان پر کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ رہنماؤں اور بعض ریپبلکنز نے تنقید کی تھی۔
