Trump's voting policy faces trouble ahead of the November 3 midterm elections; a second judge has also issued a stay.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو میل ان ووٹنگ کے حوالے سے ایک اور قانونی دھچکا لگا ہے، جہاں ایک دوسرے وفاقی جج نے امریکی پوسٹل سروس کے نئے ضابطے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے قبل میل کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار پر سیاسی اور قانونی تنازع شدت اختیار کر رہا ہے۔

واشنگٹن کے وفاقی جج کارل نکولس نے اتوار کی رات فیصلہ دیتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی اور این اے اے سی پی سمیت دیگر گروپس کی درخواست منظور کرلی اور نئے ضابطے کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جج نکولس کو خود ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران مقرر کیا تھا۔

جج نے قرار دیا کہ یو ایس پی ایس کا نیا ضابطہ بعض شہریوں کے لیے میل کے ذریعے ووٹ ڈالنا مزید مشکل بنا سکتا ہے اور پوسٹل سروس نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ ان کے مطابق قانون میں ایسی کوئی واضح شق موجود نہیں جو یو ایس پی ایس کو ضابطے کے اہم حصے جاری کرنے کا اختیار دیتی ہو۔

اس سے قبل بوسٹن کی وفاقی جج انڈیرا تلوالی بھی 4 ستمبر کو اسی ضابطے پر عمل درآمد روک چکی ہیں۔ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم 14 ستمبر کو سپریم کورٹ نے بھی ضابطے کے نفاذ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ جسٹس سیموئیل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلاف کیا۔

نئے ضابطے کے تحت ریاستوں کو میل بیلٹ حاصل کرنے والے ووٹرز کی فہرست یو ایس پی ایس کو دینا اور مخصوص بارکوڈ والے منظور شدہ لفافے استعمال کرنا ہوں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ہزاروں جائز ووٹ متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ ضابطہ کسی ریاستی قانون کو ختم نہیں کرتا اور ووٹرز کو میل کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے نہیں روکے گا۔

امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں کسی نہ کسی شکل میں میل ووٹنگ کی اجازت ہے، جبکہ 29 ریاستیں بغیر وجہ بتائے میل بیلٹ کی سہولت دیتی ہیں۔