اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مالی یا معاشی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ’بے مثال معاشی جنگ اور تنہائی‘ کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے خطے کو شدید بحران سے دوچار کر رکھا ہے، ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کی شام سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کا سہارا فراہم کرے گا، اسے ’بے مثال معاشی جنگ اور تنہائی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسے ممالک کے خلاف کون سے مخصوص اقدامات کیے جائیں گے اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا۔
ٹرمپ کی دھمکی ایسے ممالک کے لیے بھی اہم ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ مزید اطلاع تک تجارتی سرگرمیاں، کاروباری تبادلے اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام اماراتی وزارت دفاع کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران سے داغے گئے دو میزائلوں کا سراغ ملا جو سمندر میں جاگرے تھے۔ ایران نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔
تجزیاتی ادارے کلیپر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین خریدتا ہے۔ تاہم چین کے خلاف مزید معاشی کارروائی امریکا کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے کیونکہ چین امریکا کو نایاب معدنیات سمیت کئی اہم اشیا فراہم کرتا ہے اور ممکنہ جوابی اقدامات سے عالمی تجارت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ایران مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق فوجی دباؤ اور اقتصادی پابندیاں ایران کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔
ادھر امریکی بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، جبکہ اس سے ایک روز قبل ان کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ سنجیدہ سطح پر ہیں۔
