اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد فارغ کر دیا گیا۔ دو امریکی حکام نے جمعے کو بتایا کہ زکریا وائٹ ہاؤس میں اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہو رہی ہیں۔ ان کی مختصر مدت کے دوران قانونی اسناد اور میڈیا بریفنگ میں کارکردگی پر سوالات اٹھتے رہے۔
یہ تبدیلی نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے دو ہفتے سے کچھ زیادہ وقت پہلے سامنے آئی ہے۔ ایسے اہم سیاسی مرحلے پر ٹرمپ انتظامیہ ایک اہم ترجمان سے محروم ہوگئی ہے، جس کا کام حکومتی کارکردگی اجاگر کرنا اور ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں پیغام رسانی کرنا بھی تھا۔
ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے زکریا سے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا تھا۔ صدر کے مطابق انہوں نے زکریا سے کہا کہ شاید وہ اس کام میں خوش نہ رہ سکیں اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں دوبارہ بات کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
زکریا نے پیر کو کام شروع کیا اور منگل کو وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی پریس بریفنگ دی۔ ان کے مطابق انہیں 7 اکتوبر کو فون پر اس عہدے کی پیشکش کی گئی تھی، جہاں انہیں کیرولین لیویٹ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالنا تھیں۔
جلد ہی ان کے قانونی کیریئر کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔ زکریا نے بدھ کو ای میل کے ذریعے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی تجارتی قانون کی پریکٹس کی اور ان کے پاس متعلقہ اسناد تھیں۔ ٹرمپ بھی انہیں وکیل قرار دے چکے تھے۔
تاہم رائٹرز کو دستیاب ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ پیپرڈائن یونیورسٹی کے لا اسکول سے فارغ التحصیل زکریا امریکا کی کسی ریاست یا ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں بطور وکیل رجسٹرڈ تھیں یا کسی بار کی رکن تھیں۔
جمعرات کو فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے زکریا نے تسلیم کیا کہ وہ بار امتحان پاس نہیں کر سکی تھیں۔ امریکا میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا بذات خود وکالت کی اجازت نہیں دیتا؛ اس کے لیے متعلقہ ریاست کے بار میں داخلہ ضروری ہے۔
زکریا اور وائٹ ہاؤس نے ان کی رخصتی پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ جمعے کی صبح زکریا نے صحافیوں سے کہا تھا کہ وہ میڈیا کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے انتظامیہ کی میڈیا کوریج پر تحفظات کے بعد زکریا کو منتخب کیا تھا، کیونکہ وہ ایسا ترجمان چاہتے تھے جو حکومت کی کامیابیوں کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے۔
ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں کمیونیکیشن ڈائریکٹر رہنے والے انتھونی اسکاراموچی نے ایکس پر لکھا کہ ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہوتے ہیں، تاہم انہیں کسی دوسرے کی پریشانی پر خوشی نہیں۔
