اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آبنائے ہرمز بہت جلد دوبارہ کھول دی جائے گی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، ورنہ ایران کو بہت سخت جواب ملے گا اور اس کے بعد بھی یہ آبی گزرگاہ کھول دی جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق وہ پہلے ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کا سب سے بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار تھے، تاہم ایرانی حکام کی درخواست پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے رابطہ کر کے بات چیت کی خواہش ظاہر کی، جس پر امریکا نے مذاکرات کا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے بقول اگر تہران ایک بار پھر مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو اسے انتہائی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کو امریکا اور ایران کے درمیان پورا دن مذاکرات جاری رہے اور ابتدائی اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی ختم ہو جاتی ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جبکہ امریکا میں پٹرول کی قیمت تقریباً 2.5 ڈالر فی گیلن تک آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی سے متعلق معاہدہ جلد طے پا جائے گا، جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا، ایران اور عمان عبوری معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کو بحال رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ جب تک امریکا ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک نہیں کرتا، عمان کے ساتھ مجوزہ معاہدہ مؤخر رہے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان کا مقصد محفوظ بحری راستوں کا قیام اور ایران و عمان کے خودمختار مفادات کا تحفظ ہے۔
دریں اثنا قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں بھی ایران امریکا مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
