اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے خطے میں کسی بھی امریکی مداخلت کو ناکام بنائے گی، جبکہ امریکی فوج نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور عسکری مراکز پر حملوں کے ایک نئے مرحلے کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکامینیہ نے سرکاری خبر ایجنسی ارنا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ چند فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، تاہم ایران ہر صورت اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھے گا اور امریکی مداخلت کو مؤثر انداز میں ناکام بنائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کے مطابق امریکی افواج نے دو مرحلوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائل لانچنگ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاع، ڈرون تنصیبات اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق پہلی کارروائی گریٹر ٹنب جزیرے پر کی گئی، جبکہ بعد ازاں بندر عباس سمیت متعدد ساحلی علاقوں میں مزید حملے کیے گئے۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کویت کے علی السالم ایئر بیس سمیت خطے میں کئی امریکی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی حملوں کو ایران کے خلاف وجودی جنگ قرار دیا گیا۔
ایرانی میڈیا نے بندر عباس، اہواز، قشم، کنارک، سیریک اور دیگر ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اہواز میں ایک اسپتال کے قریب بھی حملہ ہوا، جہاں بچوں کے کینسر وارڈ کے باعث مریضوں کو عارضی طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کا انحصار آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول برقرار رکھنے پر ہے اور تہران اپنے مفادات کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ادھر اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حدود سے آنے والے آٹھ بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو امریکا توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
