Talks on expanding defense cooperation between Pakistan and Kuwait, energy and investment also on the agenda

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائیٹرزکی خبر کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ابتدائی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں شراکت داری بھی زیر غور ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر متعدد ذرائع کے مطابق دونوں ممالک مختلف تجاویز پر مشاورت کر رہے ہیں، تاہم مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق کویت پاکستان کے ساتھ ایسا دفاعی تعاون چاہتا ہے جو گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے مشابہ ہو۔ اس میں پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی، لڑاکا طیاروں، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی سہولیات کی فراہمی جیسے امور شامل ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت جنگی دستوں کی تعیناتی زیر غور نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ کویت کی خواہشات کا دائرہ کافی وسیع ہے، تاہم پاکستان اپنے قومی مفادات، خطے کی مجموعی صورتحال اور موجودہ سفارتی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان دفاعی تعاون کے بدلے کویت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون، تیل و گیس کی فراہمی اور سرمایہ کاری میں اضافے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف دفاع تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشی شعبے میں بھی مضبوط ہوں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں توسیع ہوتی ہے تو اس کے خطے میں پاکستان کے سفارتی کردار، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان 2023 سے محدود دفاعی تعاون موجود ہے، جس کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں اور تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ تاہم اب زیر غور تجاویز اس تعاون کو مزید وسیع کرنے سے متعلق ہیں۔

اس معاملے پر نہ تو پاکستان کے عسکری شعبۂ تعلقات عامہ اور نہ ہی کویت کی وزارتِ اطلاعات نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات کی تفصیلات بھی سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں بات چیت مزید آگے بڑھنے کا امکان ہے۔