اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی گروپ کے خلاف سرگرم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کو مختلف علاقوں میں 11 ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کردیا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے ام القوین ساحل کے قریب ایک ٹینکر سے تیل خارج ہونے کے بعد تمام ساحلی علاقوں کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرونز ریاض، مدینہ، مشرقی صوبے اور جنوبی علاقے کی جانب بھیجے گئے تھے، جبکہ بیلسٹک میزائل جنوب مغربی سعودی شہر نجْران کی طرف بڑھ رہا تھا۔ المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیانات میں حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی۔
اتحاد نے اپنے تازہ بیان میں جنوبی علاقے کی طرف بھیجے گئے مزید دو ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی۔ اس سے پہلے ریاض اور مدینہ کے اوپر چار ڈرونز، ریاض کے اوپر ایک اور مشرقی صوبے میں چار ڈرونز تباہ کرنے کا بتایا گیا تھا۔ تاہم حکام نے ڈرونز کے لانچ کیے جانے کے مقامات یا ان کی تباہی کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ اعلانات سعودی حکام کی جانب سے مشرقی صوبے میں حملوں کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آئے۔ حکام کے مطابق آرامکو کی تیل تنصیب پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملے میں مزید دو افراد جان سے گئے۔ اتحاد نے بدھ کو بھی سات ڈرونز روکنے کی اطلاع دی تھی۔
دریں اثنا، سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے اقوام متحدہ کے گلوبل ڈیٹا فورم اور دوسرے سعودی شماریاتی فورم کو ملتوی کرکے 2027 میں منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ تقریبات 9 سے 12 نومبر 2026 تک ریاض میں ہونا تھیں۔
ادھر یو اے ای کی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے ام القوین کے ساحل کے قریب ٹینکر سے تیل خارج ہونے کی تصدیق کی۔ متاثرہ علاقے میں تیل پھیلنے سے روکنے کے اقدامات اور ماحولیاتی جائزہ شروع کردیا گیا ہے۔ ام القوین کے تمام ساحل اور ساحلی علاقے تکنیکی جانچ مکمل ہونے تک بند رہیں گے۔ ماہی گیروں اور دیگر سمندری صارفین کو متاثرہ مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ شارجہ، عجمان اور ام القوین کے بعض رہائشیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر رپورٹ کی گئی غیرمعمولی بو سے صحت کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
