Over 43 million violations US court delivers harsh ruling against Facebook's parent company

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے فیس بک صارفین کو ڈیٹا کے استعمال سے متعلق گمراہ کرنے کے معاملے میں میٹا پلیٹ فارمز کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جیوری کی جانب سے کمپنی کو صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن بیانات کا ذمہ دار قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

یہ مقدمہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے جڑا ہے، جس میں لاکھوں فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات ان کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی تھیں۔ کیمبرج اینالیٹیکا ایک سیاسی مشاورتی فرم تھی جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی انتخابی مہم کے لیے کام کیا تھا۔

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریس نے جرمانے کو امریکی تاریخ میں کسی کمپنی کے خلاف ایک ریاست کی جانب سے عائد کیے گئے سب سے بڑے جرمانوں میں سے ایک قرار دیا۔ جج فرانسس میتھیو نے اپنے حکم میں لکھا کہ فیس بک کی مبینہ خلاف ورزیاں کئی برسوں پر محیط تھیں اور کمپنی کے بنیادی کاروباری طریقہ کار سے متعلق تھیں۔

جج نے ریاستی قانون کے تحت 219 ارب ڈالر سے زیادہ جرمانے کو قابل جواز قرار دیا، تاہم اسے کم کرکے 25 ارب ڈالر مقرر کیا۔ میٹا کے چیف لیگل آفیسر سی جے مہونی نے کہا کہ کمپنی کو اپیل میں کامیابی کی توقع ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نیو میکسیکو میں کاروبار کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔ میٹا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مقدمہ آن لائن اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے۔

کیمبرج اینالیٹیکا معاملے پر 2019 میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن میٹا پر 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ چھ ریاستوں نے متعلقہ مقدمات 459.2 ملین ڈالر میں طے کیے۔ اگست میں میٹا نے ریاستوں کے ساتھ مجموعی طور پر 17.1 ارب ڈالر کے تصفیے پر بھی اتفاق کیا تھا، جس میں پلیٹ فارمز کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق دعوے شامل تھے۔

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں مقدمہ دائر کیا تھا، جب انکشاف ہوا کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے 8 کروڑ 70 لاکھ تک فیس بک صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا تھا۔ ریاست کا الزام تھا کہ میٹا نے صارفین کو یہ نہیں بتایا کہ ان کی معلومات تک کن افراد کو رسائی حاصل تھی اور پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات سے متعلق اپنی پالیسیوں کے بارے میں بھی گمراہ کن بیانات دیے۔

25 ستمبر کو جیوری نے کمپنی اور اس کی قیادت کے 29 میں سے 26 بیانات کو گمراہ کن قرار دیا۔ جیوری کے مطابق نیو میکسیکو کے صارفین کے تحفظ کے قانون کی 43 ملین سے زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ریاستی قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر 5,000 ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے، اور اٹارنی جنرل کے مطابق رقم ریاست کے تعلیمی نظام کو دی جائے گی۔

میٹا نے عدالت سے جرمانہ 3.45 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کی درخواست کی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے صارفین کا ڈیٹا فروخت نہیں کیا اور ریاست یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کسی صارف کو حقیقتاً گمراہ کیا گیا۔

یہ نیو میکسیکو میں میٹا کے خلاف چھ ماہ کے اندر دوسرا بڑا فیصلہ ہے۔ مارچ میں ایک جیوری نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر نوجوان صارفین کی حفاظت سے متعلق گمراہ کن بیانات پر کمپنی کو 375 ملین ڈالر سول جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ مقدمے کے دوسرے مرحلے میں جج نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے قائم ریاستی فنڈ میں مزید 567 ملین ڈالر جمع کرانے اور نیو میکسیکو میں نوجوان صارفین کے تحفظ کے اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔