Questions raised regarding the preparedness of the police, CTD, and counter-terrorism efforts; official report concerning KP emerges.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد، صوبائی حکومت کی حکمت عملی اور وفاقی اداروں کے ساتھ رابطوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے کو سکیورٹی اداروں کی مضبوطی کے لیے 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جانے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بنیادی وسائل اور جدید سہولتوں کی کمی کا سامنا رہا۔

روزنامہ دی نیوز میں انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ جائزہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے پس منظر میں تیار کیا گیا۔ رپورٹ میں صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، پولیس کی استعداد میں اضافے اور ریاستی عمل داری بحال کرنے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبے میں 18 بڑی احتجاجی سرگرمیاں ہوئیں، جن میں چار لانگ مارچ شامل تھے۔ رپورٹ مرتب کرنے والوں کے مطابق اس دوران عسکریت پسندی میں اضافے کے پیش نظر سیاسی محاذ آرائی کے بجائے سکیورٹی اداروں کی تیاری کو ترجیح دینا ضروری تھا۔

رپورٹ میں سکیورٹی اداروں کو درپیش مسائل میں جدید ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں، نگرانی کے آلات، خصوصی تربیت، تکنیکی افرادی قوت، فرانزک صلاحیتوں اور سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچے کی کمی شامل کی گئی ہے۔ اس میں 2021 میں عسکریت پسندوں کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کی مفاہمتی پالیسی کو بھی صوبے میں شدت پسندی کی واپسی کی ممکنہ وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔ رپورٹ یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی محدود سیاسی سرپرستی کی اور سکیورٹی آپریشنز کی بارہا مخالفت کی۔

رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات میں 1,149 افراد جاں بحق اور 2,595 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 550 سکیورٹی اہلکار اور 599 شہری شامل تھے، جبکہ زخمیوں میں 1,704 اہلکار اور 891 شہری تھے۔

رپورٹ میں پاکستان کو گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس میں صوبائی قیادت کو مضبوط بنانے، انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے اور وفاقی و صوبائی سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔