اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے مؤثر قانونی پابندیاں عائد کرنے اور اقلیتی قیدیوں کو مذہبی تعلیم، امتحانات میں شرکت اور قانون کے تحت سزا میں کمی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے مطالبات پر مبنی قراردادیں منظور کرلیں۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط اقدامات پر زور دیا۔
ایوان میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد، نفسیاتی دباؤ اور دیگر ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے مؤثر قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ قرارداد میں آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکا کی متعدد ریاستوں میں کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیے گئے اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا۔
پنجاب اسمبلی نے ایک دوسری قرارداد بھی اکثریتی رائے سے منظور کی، جس میں اقلیتی قیدیوں کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے، متعلقہ امتحانات دینے اور کامیابی کی صورت میں قانون کے مطابق سزا میں کمی حاصل کرنے کے مساوی مواقع دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
حکومتی رکن راحیلہ خادم کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں پنجاب جیل رولز 1978 کے رول 215 کا حوالہ دیا گیا، جس کے تحت مذہبی تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کو سزا میں کمی کی سہولت دی جاسکتی ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ 2020 سے 2025 کے دوران 2 ہزار 558 مسلمان قیدی مذہبی تعلیم حاصل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہی نظام عیسائی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی مؤثر طور پر نافذ ہونا چاہیے، تاکہ وہ اپنے مذاہب کے نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرکے امتحانات میں شریک ہوں اور کامیابی کی صورت میں قانون کے مطابق سزا میں کمی حاصل کرسکیں۔
اجلاس میں بوسیدہ اور ناقابل استعمال قرآنی صفحات کو اسلامی اصولوں کے مطابق محفوظ کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر شفیع حسین نے احسن رضا کی تحریک التوا پر جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب قرآن بورڈ میں مختلف مکاتب فکر کے علما شامل ہیں اور مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے قرآن محل میں بوسیدہ صفحات کو خصوصی کیمیکل کے ذریعے مذہبی طریقہ کار کے مطابق تلف کیا جاتا ہے۔ قرآن بورڈ نے آگاہی مہم چلانے اور ہوم آفس میں ایک سیل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جبکہ قصور میں بوسیدہ قرآنی صفحات جمع کرنے کے لیے باکسز نصب کیے گئے ہیں۔
اسپیکر ملک محمد احمد خان نے مستقل حل کے لیے سات رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی، جس میں شفیع حسین، اسپیشل سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے۔
اجلاس میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور اپوزیشن رکن احمد رشید بھٹی نے الزام عائد کیا کہ لاہور کی متعدد سوسائٹیز نے شہریوں سے رقم وصول کی مگر وعدے کے مطابق پلاٹ فراہم نہیں کیے، جبکہ ان کے پاس جانے والے غریب شہریوں کو سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے دھمکانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
