اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق پاکستان نے عالمی سرمایہ مارکیٹ تک اپنی رسائی مزید مستحکم کرنے کے لیے امریکی ڈالر میں بینچ مارک ڈوئل ٹرینچ یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پانچ سالہ اور 10 سالہ مدت کے دو مختلف بانڈز کی پیشکش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور معاشی اشاریوں میں استحکام کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ مجوزہ لین دین مارکیٹ کے حالات سے مشروط ہے اور یہ بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک پاکستان کی دوبارہ رسائی کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔
تاہم حکومت نے فی الحال بانڈز کے حجم، قیمت اور حتمی شرح منافع کا اعلان نہیں کیا، جن کا تعین سرمایہ کاروں کی طلب اور اس وقت کے مارکیٹ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
خرم شہزاد کے مطابق نئی پیشکش خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، میکرو اکنامک اشاریوں میں مثبت تبدیلی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ پیش رفت اپریل میں پاکستان کی جانب سے تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کے صرف پانچ ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہوئی ہے۔
اپریل میں حکومت نے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر تین سالہ یورو بانڈ کے ذریعے 50 کروڑ ڈالر حاصل کیے تھے۔ اس بانڈ پر 6.975 فیصد کوپن ریٹ مقرر کیا گیا تھا، تاہم سرمایہ کاروں کی توقع سے زیادہ طلب کے باعث حکومت نے 25 کروڑ ڈالر کے گرین شو آپشن کو استعمال کرتے ہوئے مجموعی حجم 75 کروڑ ڈالر کردیا تھا۔ یہ بانڈ اپریل 2029 میں میچور ہوگا۔
اسی دوران پاکستان نے اپریل میں میچور ہونے والے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بھی کی، جس کے بعد حکومت کئی برس تک کثیرالجہتی، دوطرفہ اور کمرشل فنانسنگ پر انحصار کرنے کے بعد عالمی قرض مارکیٹ میں اپنی قیمت کا نیا بینچ مارک قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔
منگل کو ایس اینڈ پی نے پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور مجوزہ امریکی ڈالر بینچ مارک نوٹس کو بی ریٹنگ دی، جو ملکی خودمختار ریٹنگ کے مطابق ہے۔ فچ نے بھی پروگرام کو بی اور ریکوری ریٹنگ آر آر 4 دی۔ نئی پانچ اور 10 سالہ پیشکش اپریل کے تین سالہ بانڈ کے مقابلے میں پاکستان کی میچورٹی پروفائل کو مزید طویل کرے گی اور یہ بھی جانچے گی کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی خودمختار قرض کو زیادہ عرصے تک رکھنے میں کس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔
