اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایران کے لیے آج بھی مکمل طور پر قابل قبول ہے اور تہران اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہباز شریف کے مطابق پاکستان کی پوری قیادت اسلام آباد معاہدے کے تحت امن کی کوششوں کو مزید تیز کرنے کے عزم پر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برادر اور دوست ممالک کو مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کرنا ہوں گی۔
اسلام آباد معاہدے امریکا اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والی 14 نکاتی عبوری مفاہمت ہے، جس میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ بعد ازاں خطے میں وقفے وقفے سے حملے اور کشیدگی برقرار رہی، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون اور علاقائی امن و سلامتی پر بھی گفتگو ہوئی۔ پیزشکیان نے پاکستان کی اصولی سفارت کاری اور امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔
ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب سے جڑا قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے، باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
