Iran's cautious reaction to Mecca defense deal, Pakistan takes Tehran into confidence.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ ایران نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو فوری طور پر اپنے خلاف سمجھنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس معاہدے پر تشویش کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں، بالخصوص امریکا پر انحصار کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ وہ امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اگر کوئی منصوبہ خطے کی جغرافیائی اور تاریخی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع اور شمولیتی ہو تو وہ سیکیورٹی مضبوط بنانے اور عدم استحکام روکنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں مکہ دفاعی معاہدے کے مقاصد اور بنیادی نکات سے آگاہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن کے فروغ کی کوششوں پر بات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے معاہدے کی تفصیلات شیئر کرنے پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا، جبکہ دونوں نے باہمی دلچسپی کے معاملات پر رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام نہیں بلکہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر کئی برس سے بات چیت جاری تھی اور گزشتہ سال اسے باقاعدہ شکل دینے کی کوششیں تیز کی گئی تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاہدے کا مقصد امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے، کسی ملک کو دھمکی دینا نہیں۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی بند نہیں اور بنیادی اصولوں کو قبول کرنے والے ممالک مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔