Iran-US talks Partial progress but decisive stage remains
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں بعض اہم نکات پر فریم ورک طے پا گیا ہے، تاہم دونوں فریقوں نے واضح کیا ہے کہ حتمی معاہدہ فوری طور پر متوقع نہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات میں متعدد امور پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس کا مطلب کسی معاہدے کے قریب پہنچنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر توجہ زیادہ تر جاری تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی عمل جاری رکھے گا، تاہم امریکا پر مکمل اعتماد موجود نہیں کیونکہ ماضی میں وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یہ ایک علاقائی سمندری راستہ ہے اور اس کی سیکیورٹی ساحلی ممالک کی ذمہ داری ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں اور ممکن ہے کہ جلد کسی پیش رفت کا اعلان سامنے آئے۔ ان کے مطابق ایک ابتدائی فریم ورک موجود ہے جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور محدود مدت کے لیے اہم معاملات پر بات چیت شامل ہے۔
روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے کنٹرول یا فیس سسٹم کو آگے بڑھایا تو یہ کسی بھی معاہدے کو مشکل بنا دے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی سفارتکاری کو موقع دینا چاہتا ہے۔
ایرانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرے گا اور اگر معاہدہ ہوا تو وہ قومی مفادات کے مطابق ہوگا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بات چیت جاری رکھے گا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان سمیت چند علاقائی ممالک کی ثالثی کا کردار بھی شامل ہے، جس کے ذریعے فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں۔



