Iran ready for diplomacy to end war, no compromise on military capabilities Pezzekiyan

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی ایسے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد ایران کو اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہو۔ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو کے تیسرے اور آخری حصے میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو جھکانے کی کوشش کی گئی تو ملک اپنے دفاع کے لیے لڑے گا اور اپنے حقوق کے حصول سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیت اور دفاعی طاقت ختم کرنے پر کسی صورت رضامند نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایرانی فضائیہ، بری فوج، پاسداران انقلاب اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے بھرپور دفاع کیا اور دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے حیران کیا۔

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تہران خطے میں شیعہ اور سنی تقسیم کو مسلمانوں کے درمیان فاصلے کی بنیاد نہیں سمجھتا اور تمام مسلم ممالک کو ایک دوسرے کا بھائی تصور کرتا ہے۔

پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ، ان کی زمین پر قبضہ یا اپنی سرحدیں بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق ایران خطے کے ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی چاہتا ہے۔

دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو ایران کے ساتھ جنگ کم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سی این این  کی رپورٹ کے مطابق جنرل کین کو خدشہ ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا مشکل ہوگا اور مزید کارروائی خطے میں جوابی حملوں کا سبب بن سکتی ہے۔