India's agenda in Afghanistan is to destabilize Pakistan, Pakistan's position in the Security Council
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، جبکہ دہشت گرد گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان بارہا افغان طالبان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کریں، تاہم یہ مطالبہ تاحال پورا نہیں ہو سکا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ذخائر اور معاون ڈھانچے کے خلاف تھیں اور ان کا مقصد کسی بھی صورت افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں کسی ہسپتال، بحالی مرکز یا دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی افغانستان سے بنیادی توقعات میں جامع طرز حکمرانی، انسانی حقوق کا احترام، خواتین اور بچیوں کے حقوق کا تحفظ اور انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے بیشتر اراکین نے ان امور پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم بھارت نے ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان میں ترقیاتی اور انسانی امداد کی آڑ میں ایسے عناصر کی حمایت کر رہا ہے جو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ 2025 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے 5,300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 1,200 سے زیادہ افراد دہشت گرد حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے مطابق متعدد تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ کئی حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت افغان سرزمین سے کی گئی۔
سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان عوام کی مدد کرتا آیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔




