Briefing on Iran war in US Senate, easing of sanctions conditional on nuclear program
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ حکومتی اور پالیسی معاملات میں بڑھتی ہوئی سطح پر سرگرم ہو رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس اور مذاکراتی ذرائع کو ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ پس پردہ سیاسی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
روبیو کے مطابق ایران کی اندرونی قیادت بظاہر تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، تاہم اس کے باوجود بعض سطحوں پر رابطے اور بات چیت جاری ہے۔
روبیو نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں براہِ راست اس کے جوہری پروگرام سے منسلک ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی نرمی صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب تہران اپنے جوہری سرگرمیوں کو ختم کرے یا انتہائی سخت حد تک محدود کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی، ورنہ پابندیوں میں نرمی ممکن نہیں۔
روبیو نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایران کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے واضح اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنا ہوگا، کسی قسم کا ٹول یا رکاوٹ قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ سمندری تجارت آزادانہ بحال ہو، اور اگر ضرورت پڑی تو واشنگٹن بارودی سرنگیں ہٹانے میں مدد دینے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم ایران کو بحری راستوں پر حملوں سے باز رہنا ہوگا۔
روبیو نے سینیٹ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان موجود ہے، جو آج، کل یا اگلے ہفتے بھی طے پا سکتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر تہران کے فیصلوں اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی ترجیح حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ معاشی ریلیف ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے جنگی اقدامات اور بریفنگز میں شفافیت کی کمی پائی جاتی ہے۔




