Bloodshed in Yemen again, 38 Saudi-backed soldiers killed in Houthi attacks

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں کم از کم 38 حکومتی فوجی ہلاک اور 29 زخمی ہوگئے۔

طبی ذرائع کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے حالیہ برسوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی سب سے خونریز کارروائیوں میں شامل ہیں۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے ان حملوں کو 2022 کے بعد دونوں جانب کے درمیان ہونے والی بدترین خونریزی قرار دیا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے ٹھکانوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے خلاف مبینہ بڑے فوجی اجتماع کے ردعمل میں کی گئیں۔

یمنی فوجی ذرائع کے مطابق حملوں میں وسطی یمن کے صوبہ ماریب کے علاقے الرویک میں قائم فوجی کیمپ کے علاوہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب حضرموت کے علاقوں الابَر اور الوادیہ میں موجود فوجی کیمپ بھی نشانہ بنے۔

ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ ماریب میں فوجیوں کی صبح کی تشکیل کے دوران ہونے والے ایک میزائل حملے میں کم از کم 45 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم طبی ذرائع نے مجموعی طور پر 38 ہلاکتوں اور 29 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

یحییٰ سریع نے الرویک، الثانیہ اور الابَر سمیت دیگر علاقوں میں کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حوثی کسی بھی مزید کشیدگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے سینکڑوں جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ فوجی کیمپوں، اسلحہ ڈپو اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

امریکی مشن برائے یمن نے ہلاک ہونے والے یمنی فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے حملوں کو یمنی عوام کے خلاف حوثی دہشت گردی کی ایک اور مثال قرار دیا۔

گزشتہ ماہ بھی حوثیوں کے ایک حملے میں بندرگاہی شہر حدیدہ کے جنوب میں حکومت نواز فورسز کے 16 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ حملوں نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ یمن ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے کی لڑائی اور جوابی کارروائیوں کے نئے سلسلے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔