اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان برقرار رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی فوج شکست کھا چکی ہے اور ملک شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے گفتگو کے بعد اعلان کیا کہ روس امریکا اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے واشنگٹن نے روسی ایندھن کی درآمد پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کردی ہے۔
جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا امریکا ایران کے خلاف کارروائی 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کرے گا۔ انہوں نے جواب دیا، ممکن ہے، ہم دیکھیں گے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ پوتن کے ساتھ انتہائی کامیاب گفتگو میں روس نے فوری طور پر امریکا اور عالمی منڈیوں کو 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ مقدار تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل بنتی ہے۔ ان کے مطابق نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ اضافی سپلائی روسی ریفائنریوں کی صورت حال پر منحصر ہوگی۔
روسی صدارتی ایلچی کیرل دمتریئیف نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو سراہا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ واشنگٹن کے دورے میں روسی بڑی تیل کمپنیوں کو امریکا میں ڈیزل برآمد کرنے کے لائسنس دینے کی درخواست کی تھی۔
امریکا نے اکتوبر 2025 میں یوکرین جنگ کے باعث روسی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اب امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی درآمد کے لیے 7 اپریل تک اجازت نامہ جاری کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس سے ماسکو کو اضافی آمدن حاصل ہوسکتی ہے، جو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے معاہدے کو مضبوط اتحادیوں کا کمزور فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوتن کو تحائف دینے سے امن حاصل نہیں ہوگا۔ ریپبلکن رکن کانگریس ڈان بیکن نے بھی پابندیاں نرم کرنے کے بجائے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ٹرک ڈرائیوروں کے لیے ایندھن سستا کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
