اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ وہ راستہ نہیں جسے وہ ترجیح دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تہران جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کو کچھ بھی دینے پر آمادہ ہے۔
ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ایران کے ساتھ مذاکرات میں کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، وہ ایران معاہدے پر کام کر رہے ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں، لیکن یہ معاہدہ واقعی وہ چیز نہیں جو میں کرنا چاہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ روکنے کے لیے امریکا کو ہر چیز دینے پر آمادہ ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے وٹکوف کو بہترین مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی معاہدے میں ان کے کردار کو بھی سراہا۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور ایران کو انہوں نے ناکام ریاست قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے ایرانی اہداف پر ممکنہ حملوں کے آپشنز تیار کرنے کو کہا ہے، جنہیں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے انادولو کو بتایا کہ محکمہ دفاع کا کام صدر کے سامنے فوجی آپشنز تیار کرکے پیش کرنا ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ حملوں کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
ادھر آبنائے ہرمز میں آئل، ایل این جی اور ایل پی جی ٹینکرز کے خلاف حملوں اور ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
بحری سلامتی کے تین ذرائع کے مطابق 28 ستمبر سے 5 اکتوبر کے دوران کم از کم 12 حملے رپورٹ ہوئے، جو 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد کسی ایک ہفتے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
