Guterres has arrived in Pakistan for a three-day visit; discussions will be held on key regional issues, including the Iran conflict.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس تین روزہ سرکاری دورے پر منگل کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کا دورہ 6 سے 8 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا اور یہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ہورہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد آمد پر قائم مقام سیکریٹری خارجہ سفیر نبیل منیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران گوتریس کی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق دورہ پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ تعاون کو مزید اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔

گوتریس پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی نظام، عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات کریں گے۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ابتدائی وارننگ کے نظام میں پاکستان کی پیش رفت بھی دورے کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کریں گے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں بریفنگ میں شرکت بھی ان کے پروگرام کا حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گوتریس این ڈی ایم اے کے دورے کے دوران سیلاب کے بعد پاکستان کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور تیاری میں ہونے والی پیش رفت کا خود جائزہ لیں گے۔

دورے کا ایک اہم پہلو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششیں بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گوتریس پاکستان کے ان سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی جارہی ہے۔

دفتر خارجہ نے گوتریس کے دورے کو پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے وابستگی کا اظہار قرار دیا ہے۔

گوتریس 4 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے بعد نیویارک سے روانہ ہوئے تھے اور دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو واپسی متوقع ہے۔