Major diplomatic breakthrough regarding Pakistan-US-Iran talks; Guterres departs for Islamabad on a four-day visit.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور خطے میں قیام امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر بات چیت کے لیے 4 روزہ دورے پر اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔

گوتریس حکومت پاکستان کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں، جس کے دوران ان کی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفین دوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل نے گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کو دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے، اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دیتے اور ضرورت کے وقت سفارت کاری و ثالثی کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لاتے دیکھا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے اس کردار کو دنیا کے لیے ملک کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک قرار دیا۔

گوتریس نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ جون میں گوتریس نے امریکا ایران امن معاہدے کو تنازع کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ گزشتہ ماہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بھی فریقین پر زور دے چکے ہیں کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور سفارتی ذرائع سے تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔

دورے کے دوران گوتریس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور استعداد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے ہیڈکوارٹرز بھی جائیں گے، جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔

گوتریس 2026 کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوں گے۔ وہ اس سے قبل 2022 میں تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد یکجہتی کے اظہار کے لیے پاکستان آئے تھے