اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پارٹی کے شیڈول کے مطابق قافلہ 6 اکتوبر کو پشاور پہنچے گا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے مارچ کی قیادت کریں گے۔
شیڈول کے مطابق پہلے روز مارچ کا پڑاؤ کرک میں ہوگا، جبکہ 5 اکتوبر کو قافلہ کوہاٹ پہنچے گا۔ 6 اکتوبر کو شرکا کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوں گے۔
ڈی آئی خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور بنوں سے آنے والے قافلے پہلے لکی مروت میں جمع ہوں گے اور اس کے بعد مرکزی مارچ میں شامل ہوں گے۔
پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت کی تصدیق کی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی بھی مارچ میں شرکت متوقع ہے۔
پارٹی کے مطابق مارچ کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف مقدمات کی سماعت میں تیزی لانا، ان کے علاج سے متعلق مطالبات اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کرانا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو جمعہ کو مارچ کا تفصیلی شیڈول جاری کرنا تھا، جس کے بعد ارکان صوبائی اسمبلی، پارٹی عہدیداروں اور تنظیموں کو بھی منصوبے سے آگاہ کیا جانا تھا۔
پی ٹی آئی نے اس سے قبل 27 ستمبر کو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ اس وقت پارٹی نے کہا تھا کہ مارچ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر کیا اور مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا جائے گا۔
ادھر 4 اکتوبر کے مارچ کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بعد حکومت اور پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کیلئے چھ رکنی وفد تشکیل دیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مارچ کو پرامن سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مذاکرات اور سیاسی رابطے پر زور دیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں حکومتی مداخلت یا گورنر راج کے امکانات پر بھی دونوں جانب سے بیانات سامنے آچکے ہیں۔
