اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ پاکستان آرمی کا سابق اہلکار محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ مقبوضہ کشمیر میں لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی حیثیت سے مارا گیا۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ وہ زندہ ہیں۔ انہوں نے بھارتی دعوے کو ایک اور فالس فلیگ کارروائی قرار دیتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
احمد شریف چوہدری کے مطابق بھارتی فوج نے 29 ستمبر کو کوراگ، یوسمرگ کے علاقے میں بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے مشترکہ سرچ آپریشن کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی فوج نے ابتدائی طور پر ایک دہشت گرد کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ تقریباً سات گھنٹے بعد ایک لاش برآمد ہونے اور اسے پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے دہشت گرد محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر شناخت کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوئے، 2000 میں پاکستان آرمی میں شامل ہوئے، اور حوالدار کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ انہوں نے 2005 میں اسپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کی اور 4 کمانڈو یَلغار بٹالین میں خدمات انجام دیں۔
بھارتی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ 2006 سے بلوچستان میں تقریباً 10 آپریشنز میں شریک رہے اور 2006 سے 2009 تک سابق صدر پرویز مشرف کی وی وی آئی پی سکیورٹی ٹیم کا حصہ رہے۔
محمد آصف نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ وہ 2000 میں فوج میں شامل ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی کا حصہ بنے اور 18 سال سروس کے بعد 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا میں اپنی ہلاکت کی خبر دیکھ کر انہیں بھارتی نمبروں سے متعدد فون کالز بھی موصول ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان سے دہشت گردی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور ملکی خودمختاری پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ سیاست سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور سیاسی معاملات سیاسی جماعتوں اور حکومت کو دیکھنے چاہئیں۔
