An alleged warning, a secret meeting; the meeting between Netanyahu and the Emirati President has sparked a new debate.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو اچانک متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کو ملاقات کی تصدیق کی، تاہم یہ دورہ پہلے سے اعلان شدہ نہیں تھا۔

اسرائیلی میڈیا چینل 12، کان، اور یروشلم پوسٹ نے بھی نیتن یاہو کے ایک روزہ دورے کی رپورٹ دی۔ چینل 12 کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نجی طیارے کے ذریعے ابو ظہبی پہنچے اور وہیں دن گزارا۔

نیتن یاہو کے دفتر اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر ملاقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے قبل مبینہ اماراتی وارننگ کا معاملہ اسرائیل میں دوبارہ زیر بحث ہے۔

اسرائیلی اخبار ہاآرتز نے رواں ماہ دعویٰ کیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید نے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق یہ اطلاع اسرائیلی انٹیلی جنس یا فوج تک نہیں پہنچائی گئی۔

نیتن یاہو اس رپورٹ کی تردید کرچکے ہیں اور ہاآرتز کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے مبینہ وارننگ پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے کھلے اور براہ راست ذرائع موجود ہیں۔

یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ رواں سال ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو کے خفیہ دورۂ امارات کی ایک رپورٹ سامنے آئی تھی، جس کے بعد ابو ظہبی نے اس وقت شیخ محمد اور نیتن یاہو کی ملاقات کی تردید کی تھی۔ بعد ازاں رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی 26 مارچ کو العین میں ملاقات ہوئی تھی۔

اسرائیل اور امارات نے 2020 میں امریکی ثالثی میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید اہم ہوگئے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامی پر ذمہ داری کا سوال بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔