اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی، سیاسی اور عالمی امور پر تجزیاتی اور آزاد نقطۂ نظر پر مبنی مواد شائع کرنے والے پلیٹ فارم دی فیداتو نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے حوالے سےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی تحریر شائع کی ہے۔جس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سرحدی جھڑپیں نہ تو اچانک شروع ہوئی ہیں اور نہ ہی بلاجواز ہیں۔
تحریر کے مطابق 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنی سفارت خانے خالی کر دیے، تاہم پاکستان نے اپنا مشن کابل میں برقرار رکھا۔ پاکستان گزشتہ 40 برس سے زائد عرصے کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرتا رہا ہے اور انخلا کے دوران بھی افغان شہریوں سمیت دیگر افراد کو افغانستان سے باہر نکالنے میں مدد فراہم کی۔
تحریر میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی کانفرنسوں اور اقتصادی تعاون تنظیم کے ذریعے افغانستان کے 9 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی حمایت کی۔ تاہم تحریر کے مطابق طالبان نے افغانستان کو تحریک طالبان پاکستان کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا۔
تحریر میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس مسئلے کو مذہبی، قبائلی اور سرکاری سطح پر پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی۔ جولائی 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں 8 رکنی علما وفد کابل گیا، جس کے چند روز بعد 17 رکنی قبائلی جرگہ بھی افغانستان پہنچا۔ 22 فروری 2023 کو وزیر دفاع خواجہ آصف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کابل کا دورہ کیا، جبکہ جولائی 2024 میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ایک اور وفد کی قیادت کی۔
تحریر کے مطابق پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے بھی تجارت کے فروغ کے لیے کام کیا، جس کے نتیجے میں ای ایچ پی پروگرام سامنے آیا اور 8 زرعی اشیا پر محصولات میں کمی کی گئی۔
اکتوبر 2025 میں کئی برسوں کی بدترین سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے قطر کی ثالثی میں جنگ بندی قبول کی اور بعد ازاں دوحہ اور استنبول میں مذاکرات ہوئے، تاہم کوئی دیرپا معاہدہ نہ ہو سکا۔ فروری 2026 میں سعودی ثالثی کے نتیجے میں افغانستان کے ہاتھوں گرفتار 3 پاکستانی فوجیوں کی رہائی عمل میں آئی۔ اپریل 2026 میں چین کی ثالثی میں ارومچی میں مذاکرات ہوئے، جہاں پاکستان کے مطالبات میں ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا، اس کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا اور قابلِ تصدیق ثبوت فراہم کرنا شامل تھا۔
تحریر میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 2021 میں 89، 2022 میں 262، 2023 میں 306، 2024 میں 521 اور 2025 میں 699 رہی۔ 2025 میں ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1,034 افراد مارے گئے۔ 2026 کے پہلے 8 ماہ میں مجموعی طور پر 3,150 اموات ہوئیں، جن میں تقریباً 488 سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
تحریر کے مطابق 2026 کے وسط تک مجموعی اموات کی تعداد 3,844 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ 1,027 سے زائد سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو چکے تھے۔ جولائی 2026 میں 112 سکیورٹی اہلکار مارے گئے، جو جنوری 2023 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ ماہانہ جانی نقصان تھا۔ اسی ماہ 8 خودکش حملے ہوئے، جو ایک دہائی کے دوران کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔
تحریر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ 4 روزہ جنگ کے دوران افغانستان نے مغربی محاذ پر حملوں کے لیے ٹی ٹی پی کے 40 رکنی دستے کو بھیجا، جس میں طالبان کے ایک عہدیدار کا بیٹا بھی شامل تھا۔
دی فداتو کے مطابق حالیہ فضائی حملوں اور سرحدی کشیدگی کا فوری محرک کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ کے اندر واقع مسجد میں خودکش حملہ تھا۔ حملہ آور نے دھماکا کیا، جس کے بعد 8 مسلح افراد نے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا۔ 20 گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی میں کم از کم 21 افراد شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار تھے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ چند روز بعد ہنگو میں ہونے والی جھڑپوں میں 6 پاکستانی سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔
تحریر کے مطابق حملہ آوروں کو افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں سے جوڑا گیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر کہا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف 2 درجن سے زائد عسکریت پسند گروہ موجود ہیں۔
دی فداتو کے مطابق پاکستان نے 21 ستمبر کو افغانستان میں عسکریت پسندوں کے 3 ٹھکانوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا اور 28 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اس کے بعد طالبان نے کوہاٹ اور طورخم کی جانب 8 ڈرون بھیجے اور سرحدی چوکیوں پر گولہ باری کی۔ پاکستان نے ڈرونز کو ناکارہ بنایا اور 24 ستمبر کو 10 لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا۔ تحریر میں اس ردعمل کو متوازن اور متناسب قرار دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2025 میں اورکزئی میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کے دوران 11 فوجی اہلکار، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر بھی شامل تھے، مارے گئے۔ اس کے بعد عسکریت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس ٹریننگ اسکول پر حملہ کیا، جس میں 7 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد مکمل سرحد پار حملہ ہوا، جس میں پاکستان کے 23 فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ 200 سے زائد طالبان اور ان سے منسلک جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
تحریر میں حالیہ سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قندھار کے ایک ذریعے کے مطابق طالبان وزرا نے ترکی کے انٹیلی جنس چیف کو بتایا کہ معاملات پر صرف قندھار میں بات کی جا سکتی ہے۔ انہیں وہاں مدعو کیا گیا، تاہم طالبان کے سربراہ نے آخری وقت میں ملاقات سے انکار کر دیا اور انہیں مغربی قرار دیا۔ ملاقات بعد میں ملا عمر مسجد میں قندھار کے گورنر کی موجودگی میں ہوئی۔ بعد ازاں ترک انٹیلی جنس چیف نے پاکستان سے کہا کہ طالبان سے سمجھدار رویے کی توقع کرنا خود کو دھوکا دینا ہے۔
تحریر کے اختتام پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ اب فیصلہ خود کیا جائے کی آیا پاکستان جارح ہے یا پھر ایک ایسی ریاست جو سرحد پار دہشت گردی سے اپنے عوام کا دفاع کر رہی ہے
