اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق کارروائی بدھ کو کی گئی اور ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے سے متعلق سرگرمیاں جاری تھیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوکر ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کا بروقت سراغ لگایا، انہیں ٹریک کیا اور مطلوبہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح 8 ڈرونز مار گرائے گئے، جن میں 4 کو طورخم کے قریب جبکہ دیگر 4 کو کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی، جبکہ گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ تحویل میں لے لیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان میں کی گئی کارروائی محدود، درست، متناسب اور سوچ سمجھ کر کی گئی اور صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان اور دیگر متعلقہ حلقوں کو افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور پناہ گاہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، تاہم اسلام آباد کے مطابق ان نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے دشمنانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔
اسی دوران کرم میں بھی افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیا سے مبینہ طور پر فتنۃ الخوارج کے جنگجوؤں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے بھاری ہتھیاروں اور مارٹر فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی چوکیوں اور دفاعی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور مذاکرات و علاقائی امن کے لیے پرعزم ہے، تاہم ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
